اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نبنزیا نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس پر عائد پابندیوں اور امریکا، اسرائیل و یوکرین کی فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی توانائی اور خوراک کی منڈیوں میں شدید عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر خوراک کی ترسیل کے نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا کے مختلف ممالک اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
روسی مندوب نے روسی زرعی مصنوعات لے جانے والے تجارتی بحری جہازوں پر یوکرین کے ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں نے اشیائے خورونوش کی ترسیل کے راستوں میں بڑے پیمانے پر افراتفری پیدا کردی ہے۔
نبنزیا نے ان مغربی ممالک سے، جو عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں، مطالبہ کیا کہ وہ یوکرینی حکام کو ایسے اقدامات سے روکیں جو عالمی غذائی بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے آمدورفت پر عائد پابندیوں نے فلسطینیوں کے لیے اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔
روسی مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ فلسطین میں غذائی تحفظ کے بحران کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اس حوالے سے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
نبنزیا نے اپنے خطاب میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2417 پر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ یہ قرارداد 2018 میں مسلح تنازعات کے دوران بھوک اور غذائی قلت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے منظور کی گئی تھی۔
انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن سے عالمی سطح پر خوراک کی ترسیل کا نظام محفوظ بنایا جاسکے اور ان عوامل کا راستہ روکا جاسکے جو دنیا بھر میں غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ